12 اکتوبر 2010 - 20:30

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ مستقبل میں ایٹمی مواد کی پیداوار پر پابندی کا معاہدہ ’ایف ایم سی ٹی‘ ناقابل قبول ہے ۔

 یہ بات اقوام متحدہ کے لئے جنیوا میں پاکستان کے مستقل مندوب ضمیر اکرم نے جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے امریکا بھارت ایٹمی معاہدے کا ذکر کئے بغیر کہا کہ پچھلے چند سال کے دوران کچھ طاقت ور ممالک نے اپنے کاروباری مفادات کی خاطر طاقت کے توازن کا بہانہ بناکر ایٹمی تعاون کے بے لگام اور امتیازی معاہدے کئے جو اُن کے بین الاقوامی وعدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ اس صورت حال نے پاکستان کے سلامتی کے خدشات میں اضافہ کردیا ہے ۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے پاس ایٹمی مادوں کا وسیع ذخیرہ اور ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی بھرپور استعداد ہے ، لیکن ایف ایم سی ٹی صرف مستقبل میں ایٹمی مادوں کی پیداوار پر پابندی عائد کرتا ہے ، لہذا یہ معاہدہ اسٹریٹجک اعتبار سے پاکستان کے لئے نقصان دہ اور ناقابل قبول ہے ۔ پاکستان ایسے معاہدے کا حامی ہے جس کے تحت نہ صرف مستقبل میں ایٹمی مادوں کی پیداوار پر پابندی ہو بلکہ ایٹمی مادوں کے موجود ذخائر میں بھی کمی کی جائے۔ 

........

/110